ملک شام میں جس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خیمہ گاڑا گیا تھا ٹھیک اسی جگہ حضرت داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی مگر عمارت پوری ہونے سے قبل ہی حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کا وقت آن پہنچا۔اور آپ نے اپنے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس عمارت کی تکمیل کی وصیت فرمائی چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی جماعت کو اس کام پر لگایا اور عمارت کی تعمیر ہوتی رہی۔یہاں تک کہ آپ کی وفات کا وقت بھی قریب آگیااور عمارت مکمل نہ ہو سکی تو آپ نےیہ دعا مانگی کہ الٰہی میری موت جنوں کی جماعت پر ظاہر نہ ہونے پائےتاکہ وہ برابر عمارت کی تکمیل میں مصروف رہیں اور ان سبھوں کو علم غیب کا جو دعویٰ ہے وہ بھی باطل ٹھہر جائے۔یہ دعا مانگ کر آپ محرا ب میں داخل ہو گئےاور اپنی عادت کے مطابق اپنی لاٹھی ٹیک کر عبادت میں کھڑے ہو گئےاور اسی حالت میں آپ کی وفات ہو گئی مگر جن مزدور یہ سمجھ کر کہ آپ زندہ کھڑے ہوئےہیں۔برابر کام میں مصروف رہےاور عرصہ دراز تک آپ کا اس حالت میں رہنا جنوں کے گروہ کے لیے کچھ باعث حیرت اس لیے نہیں ہواکہ وہ بارہا دیکھ چکے تھےکہ آپ ایک ایک ماہ بلکہ کبھی کبھی دو دو ماہ برابر عبادت میں کھڑے رہا کرتےتھے۔یہاں تک کہ بحکم الٰہی دیمک نے آپ کے عصا کو کھا لیااورعصا گر جانے کے سے آپ کا جسم مبارک زمین پر آگیا اور اس وقت جنوں کی جماعت اور تمام انسانوں کو پتہ چلا کہ آپ کی وفات ہو گئی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس واقعہ کو ان لفظوں میں بیان فرمایا ہےکہ
"پھر جب ہم نے ان (حضرت سلیمان )پر موت کا حکم بھیجا تو جنوں کو ان کی موت دیمک ہی نے بتا ئی جو ان کے عصا کو کھا رہی تھی پھر جب حضرت سلیمان زمیں پر آگئےتو جناں کی حقیقت کھل گئی اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو وہ اس ذلت کے عذاب میں اتنی دیر تک نہ پڑے رہتے۔"(سورہ سبا۔رکوع2 پارہ22)
حضرت عیسی علیہ السلام اور فقر اختیاری سیدنا مسیح علیہ السلام کی پوری زندگی فقر سے عبارت ہے آپ نے دنیوی جاہ و حشمت کو پرکاہ کی بھی حیثیت نہ دی۔ آپ کا خاندان بڑھئی کے پیشے سے منسلک تھا اور بائیبل کی رو سے آپ نے اپنی جوانی تک اسی پیشہ کو اختیار کئے رکھا۔ آپ علیہ السلام کا فقر اختیاری تھا۔ اضطراری نہیں تھا۔ آپ چاہتے تو دولت آپ کے قدم چومتی لیکن آپ دنیاوی مال متاع کو راہ کا روڑا یقین کرتے تھے۔ نہ صرف آپ نے فقر کی زندگی کو خود ترجیح دی بلکہ اپنے ماننے والوں کو بھی فقر کی زندگی اختیار کرنے کی تعلیم دی۔ 1- آپ نے تمثیلی انداز تبلیغ اختیار فرمایا۔ اور اپنے ارد گرد کی علامات کو ابلاغ کا ذریعہ بنایا دو مالکوں کی تفصیل بیان کرکے فقر کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں "تم خدا اور دولت دونوں کی غلامی نہیں کرسکتے" (متی 24:6) 2- پرندوں اور سوسنوں کی تمثیل بیان فرما کر یہ احساس دلاتے ہیں کہ رزق کا ذمہ اللہ نے لے لیا ہے۔ پرندے ذخیرہ نہیں کرتے۔ صبح اٹھ کر زمین پر پھیل جاتے ہیں اور انہیں رازق مل جاتا ہے سوسن کا پودہ زمین سے بغیر کوشش کے خوراک حاصل کرلیتا ہے انسان کو اللہ پر توکل کرنا چاہئے اس تمثیل کے بعد فرماتے ہیں۔ "پس کل کے دن کےلئے فکر نہ کرو" (متی 34:6) 3- ایک امیر آدمی نے آخری نجات کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا "جا اور اپنا سب کچھ بیچ ڈال اور غریبوں کو عطا کر۔ تو تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا۔ اور آکر میرے پیچھے ہولے" (مرقس 10تا21) 4- دنیا کی بضاعتیں و آخرت کی بقاء کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں اور آخرت کی بہتری کےلئے انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین کرتے ہیں۔ "اپنے واسطے زمین پر خزانہ جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاکر چراتے ہیں۔ بلکہ اپنے لئے آسمان پر خزانہ جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے اور نہ چور نقب لگا کر چراتے ہیں۔ کیونکہ جہاں تیرا خزانہ ہے وہیں تیرا دل بھی ہوگا۔" (متی 19:6تا21) 5- حضرت مسیح علیہ السلام ایک نادان ساھوکار کی تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ اس ساھوکار کے پاس اس قدر غلہ ہوا کہ رکھنے کی جگہ نہ رہی۔ اس نے چھوٹے چھوٹے مکانات کو گرا کر بڑے مکانات بنائے اور پوری فصل ذخیرہ کردی اور سوچا کہ اب مجھے کوئی فکر نہیں۔ پوری زندگی عیش سے بسر ہوگی لیکن وہ اسی دن مرگیا۔ اور اس کی دولت نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا۔ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں "ایسا ہی وہ ہے جو اپنے لئے خزانہ جمع کرتا ہے اور خدا کے نزدیک دولتمند نہیں" (لوقا 16:12تا21) لوگوں نے جب مسیح علیہ السلام کے معجزات کو دیکھا تو آپ کی راہ پر گامزن ہونے کی التجا کی۔ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں۔ کہ برج بنانے سے پہلے اخراجات کا حساب کرلینا ضروری ہے۔ اسی طرح جنگ سے پہلے بادشاہ دشمن کی طاقت کا خوب اندازہ کرلیتا ہے تم بھی میری تقلید سے پہلے خوب سوچ لو۔ آپ فرماتے ہیں "جو کوئی تم میں اپنا سب کچھ ترک نہ کرے میرا شاگرد نہیں ہو سکتا۔"(لوقا 33:14) آپ علیہ السلام کا یہ معمول تھا کہ کثرت سے بارگاہ خداوندی میں دعا کرتے۔ آپ کے شاگردوں نے عرض کی کہ انہیں بھی دعا کرنے کا طریقہ سکھایا جائے۔ آپ نے اس دعا میں یہ الفاظ بھی تعلیم فرمائے "ہمارے روزینے کی روٹی روز مرہ ہمیں دیا کر" (لوقا 3:11) رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ کو بھی یہ الفاظ تعلیم فرمائے "پاک اور حلال کماؤ، نیک کام کرو، اللہ تعالٰی سے ہر دن کو دن ہی کی روزی مانگو اور اپنے آپ کو مردوں میں سمجھو" (بحوالہ مکاشفہ القلوب ص219) ایک شخص نے التجا کی کہ اے حضور المسیح مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔ آپ نے فرمایا "لومڑیوں کی ماندیں ہیں اور پرندوں کےلئے گھونسلے مگر ابن انسان کےلئے اتنی بھی جگہ نہیں جہاں سر رکھے" (لوقا 58:9) "ایک شخص نے حضور المسیح علیہ السلام سے پوچھا کہ "میں کونسی نیکی کروں تاکہ ابدی زندگی پاؤں" آپ نے تورات کی ایک آیت کی طرف اشارہ کرکے فرمایا۔ اس شخص نے عرض کی شریعت پر تو میں پہلے سے عمل کر رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا "اگر تو کامل ہونا چاہتا ہے تو جا اپنا سب کچھ بیچ ڈال اور غریبوں کو دے" اس ضمن میں اناجیل مقدسہ کی سینکڑوں آیات پیش کی جاسکتی ہیں۔ فقر کی تعلیم تمام انبیاء علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعلیم میں ہے۔ اتنی مطابقت شاید ہی کہیں ہو۔ رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی کئی فرامین کو بیان فرمایا ہے۔ کچھ تو اناجیل متداولہ میں مل جاتے ہیں اور کچھ ان میں مذکور نہیں ہیں۔
حضرت آدم علیہ السلام کا حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وسیلہ سے دعاء کرنا
سوال: میں نے سنا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وسیلہ لیکر دعاء کی تھی اور آپ کی دعاء قبول ہوگئی،براہ کرم اس حدیث شریف کا حوالہ اور متن ذکر فرمائیں تو موجب تشکر ہوگا-
جواب: سیدنا آدم علیہ السلام نے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وسیلہ سے دعاء فرمائی تھی اس کا ذکر اشارۃً اور صراحۃً قرآن کریم اور احادیث شریفہ میں موجود ہے چنانچہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر:37 میں ہے: فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ- ترجمہ:پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمے سیکھ لئے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کی ،بیشک اللہ وہی بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے-(سورۃ البقرہ،37)
مذکورہ آیت کریمہ میں جن کلمات کے سیکھنےکا ذکر ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی ان کلمات کے متعلق
" مستدرک علی الصحیحین ،معجم صغیر طبرانی ، معجم اوسط طبرانی،، دلائل النبوة للبيهقي، مجمع الزوائد، جامع الاحاديث والمراسيل، كنز العمال، تفسير در منثور, تفسير الكشف والبيان للثعلبی، تفسیر روح البیان، الشريعة لابي بكر محمد بن الحسين بن عبد الله الآجُرِّيُّ البغدادي(متوفي360 هـ) كتاب الإيمان والتصديق بأن الجنة والنار مخلوقتان، المواهب اللدنية ، شرح المواهب للزرقاني, خصائص كبرى ، سبل الهدى والرشاد، السيرة النبوية لابن كثير، خلاصة الوفا بأخبار دار المصطفى صلی اللہ علیہ والہ وسلم ،البداية والنهاية لابن كثير ،حجۃ اللہ علی العلمیمن فی معجزات سید المرسلین صلی اللہ علیہ والہ وسلم ، الفتاوى الحديثية لابن حجر الهيتمي. ، تاريخ دمشق لابن عساكر،اور موسوعہ فقهيہ كويتيہ"
میں روایت مذکور ہے :
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لما اقترف آدم الخطيئة قال : يا رب أسألك بحق محمد لما غفرت لي ، فقال الله : يا آدم ، وكيف عرفت محمدا ولم أخلقه ؟ قال : يا رب ، لأنك لما خلقتني بيدك ونفخت في من روحك رفعت رأسي فرأيت على قوائم العرش مكتوبا لا إله إلا الله محمد رسول الله فعلمت أنك لم تضف إلى اسمك إلا أحب الخلق إليك ، فقال الله : صدقت يا آدم ، إنه لأحب الخلق إلي ادعني بحقه فقد غفرت لك ولولا محمد ما خلقتك » هذا حديث صحيح الإسناد-
ترجمہ: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش ہوئی تو انہوں نے اللہ کے حضور معروضہ کیا:ائے میرے پروردگار ! میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے دعا کرتا ہوں تو مجھے بخش دے،اللہ تعالی نے فرمایا:ائے آدم !تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے جانتے ہو ابھی تو وہ دنیا میں تشریف نہیں لائے ہیں؟ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا:ائے میرے رب!تو نے جب مجھے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور اپنی روح خاص مجھ میں پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ قوائم عرش پر
" لا إله إلا الله محمد رسول الله "
لکھا ہوا پایا،تو میں جان گيا کہ تو نے اپنے نام مبارک کے ساتھ انہیں کا نام پاک ملایا ہے جو ساری مخلوق میں سب سے زیادہ تجھے پسندیدہ ومحبوب ہیں – اللہ تعالی نے فرمایا:ائے آدم ! تم نے سچ کہا ،بیشک وہ ساری مخلوق میں میرے پاس سب سے زیادہ محبوب ترین ہیں،تم ان کے وسیلہ سے دعا کرو میں ضرور تم کو مغفرت عطا کرؤنگا،اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں تمہیں پیدا نہ کرتا- ٭ مستدرک علی الصحیحین، كتاب تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين، حدیث نمبر: 4194- ٭ معجم اوط طبراني حديث نمبر:6690- ٭ معجم صغیر طبرانی، باب الميم، من اسمه محمد، حدیث نمبر: 989 – ٭ دلائل النبوة للبيهقي، جماع أبواب غزوة تبوك،اب ما جاء في تحدث رسول الله صلى الله عليه وسلم بنعمة ربه عز وجل، حدیث نمبر: 2243 – - ٭ مجمع الزوائد، ج،8ص،198 ،حديث نمبر:13917– - ٭ جامع الاحاديث والمراسيل ,مسند علي بن ابي طالب، حديث نمبر:33457- ٭ كنز العمال، كتاب الفضائل من قسم الأفعال ،الفصل الثالث في فضائل متفرقة تنبيء عن التحدث بالنعم، حديث نمبر: 32138 - - ٭ تفسير ر منثور, سورة البقرة:37- - ٭ تفسير الكشف والبيان للثعلبي، سورة البقرة :37- - ٭ تفسیر روح البیان،ج،2،ص:376،سورۃ المائدۃ:16- - ٭ الشريعة لابي بكر محمد بن الحسين بن عبد الله الآجُرِّيُّ البغدادي(متوفي360 هـ) كتاب الإيمان والتصديق بأن الجنة والنار مخلوقتان، حديث نمبر:938- ٭ المواهب اللدنية ,ج,1,ص,82- ٭ شرح المواهب للزرقاني,ج,1,ص,119- - ٭ خصائص كبرى ،باب خصوصيته صلى الله عليه وسلم بكتابة اسمه الشريف مع اسم الله تعالى على العرش وسائر ما في الملكوت- - ٭ سبل الهدى والرشاد، في سيرة خير العباد, جماع أبواب بعض الفضائل والآيات الواقعة قبل مولده صلى الله عليه وسلم, الباب الخامس في كتابة أسمه الشريف مع اسم الله تعالى على العرش ،ج1ص85- ٭ السيرة النبوية لابن كثير، ج،1 ص،320- - ٭ خلاصة الوفا بأخبار دار المصطفى صلی اللہ علیہ والہ وسلم , الفصل الثاني " في توسل الزائر به صلى الله عليه وسلم إلى ربه تعالى-
- ٭ البداية والنهاية لابن كثير باب خلق آدم عليه السلام -
٭حجۃ اللہ علی العلمیمن فی معجزات سید المرسلین صلی اللہ علیہ والہ وسلم ،23-
٭ الفتاوى الحديثية لابن حجر الهيتمي. مطلب في حماعة يصلون على النبي، النبي صلى الله عليه وسلم-
بلعم بن باعورہ اپنے دور کا بہت بڑا عابد و زاہد اور جید عالم دین تھا۔ اسے روحانیت میں بڑا کمال حاصل تھا۔ وہ عرش اعظم کو اپنی جگہ بیٹھ کر دیکھ لیا کرتا تھا۔ بارگاہ خداواندی میں اس کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ وہ جو دعا منانگتا قبول ہو جایا کرتی تھی۔ جب حضرت موسٰٰی علیہ السلام سرکش اور نا فرمان قوم “ جبارین“ سے جہاد کرنے کے لئے روانہ ہوئے تو یہ قوم گھبرا گئی اور بلعم ب باعورہ کے پاس آئی اور رو رو کر کہنے لگی اے بلعم حضرت موسٰی علیہ السلام ایک طاقتور فوج کے ساتھ ہماری قوم پر حملہ کرنے آرہے ہیں۔ آپ چونکہ اللہ کے مقرب اور محبوب بندے ہیں آپ کی دعا قبول ہوتی ہے لہذا آپ حضرت موسٰی علیہ السلام اور ان کے لشکر کے لئے ایسی بد دعا کریں کہ وہ شکست کھا کر پلٹ جائیں۔ یہ سن کر بلعم بن باعورہ کانپ اٹھا اور کہنے لگا خدا کی پناہ! حضرت موسٰی علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں اور ان کے لشکر میں مومنوں اور فرشتوں کی جماعت شامل ہے ایسی مقدس ہستی پر میری جرات نہیں ہو سکتی کہ میں ان کے لئے بد دعا کروں ۔ مگر نا فرمان اور بے ادب قوم کا یہ حال تھا کہ وہ مسلسل رو رو کر اور گڑ گڑا کر اصرار کرنے لگی حتٰی کہ بلعم بن باعورہ کا دل نرم پڑگیا اور کہنے لگا پہلے میں استخارہ کروں گا اگر مجھے اللہ کی طرف سے اجازت مل گئی تو بددعا کر دوں گا۔ ۔ جب استخارہ کیا تو اسے اجازت نہیں ملی۔ پھر اس نے اپنی قوم سے ساف صاف کہہ دیا کہ اگر میں اللہ کے نبی کے لئے بد دعا کی تو میری دنیا اور آخرت دونوں ہی برباد ہو جائیں گی۔ لہذا میں بد دعا نہیں کر سکتا۔ قوم جبارین نے مال و دولت اور گراں قدر تحفے اس کی خدمت میں پیش کئے یہاں تک کہ بلعم بن باعورہ پر حرص و طمع کا بھوت سوار ہو گیا اور مال و دولت کے لالچ میں ایسا مبتلاہوا کہ وہ گدھی پر سوار ہو کر بد دعا کے لئے چل دیا راستہ میں کئی بار ایسا ہوا کہ گدھی ٹھر جاتی اور منہ موڑ کر بھاگنا چاہتی ۔ مگر یہ اس کو مار مار کر آگے پڑھاتا رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے گدھی کو قوت گویائی عطا کی۔ گدھی بولی! اے بلعم بن باعورہ تجھ پر افسوس کہ اللہ کے نبی اور مومنین کی جماعت کے لئے بد دعا کرنے جا رہا ہے ۔ دیکھ میرے آگے فرشتے ہیں جو میرا راستہ روکتے اور میرا منہ دوسری طرف کرتے ہیں۔ گدھی کی ان باتوں کا اس پر ذرا اثر نہ ہوا۔ حتٰی کہ وہ ایک پہاڑ پر چڑھ گیا اور حضرت موسٰی علیہ السلام کودیکھنے لگا ۔ مال و دولت کے لالچ نے اسے مدہوش کر دیا تھا۔ چناچہ اس نے اللہ کے برگزیدہ نبی حضرت موسٰی علیہ السلام کے لئے بد دعا شروع کردی ۔ لیکن خداوند قدوس کی شان دیکھئے کہ وہ بد دعا تو حضرت موسٰی علیہ السلام کے لئے کرنا چاہتا تھا مگر بد دعا اس کی قوم کے لئے اس کی زبان پر جاری ہو جاتی تھی ۔ قوم نے جب یہ دیکھا تو اسے ٹوکا کہ اے بلعم تم تو ہمارے لئے بد دعا کرنے لگ گئے ۔ بلعم کہنے لگا اے قوم کے لوگو! میں کیا کروں میں بولتا کچھ اور ہوں اور میری زبان سے نکلتا کچھ اور ہے ۔ پھر اچانک اس پر خداوند قدوس کا قہر نازل ہوا۔ یکایک اس کی زبان لٹک کر سینے پر آگئی پھر رو رو کر اپنی قوم سے کہنے لگا کہ افسوس میری دنیا و آخرت برباد ہوگئیں۔ نبی کی شان میں بے ادبی کرنے پر میرا ایمان جاتا رہا اور میں غضب الہی میں گرفتار ہو گیا افسوس اب میری کوئی دعا اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہو سکتی۔ ( ملاحظہ کیجیئے تفسیر صاوی جلد دوئم صفحہ 94، تفسیر جلالین سورہ اعراف پ 9، رکوع 22) مسلمانو! بلعم بن باعورہ کی المناک داستان کا ذکر قرآن مجید میں سورہ اعراف میں آیا ہے جس سے حقیقت کا پتہ چلا کہ بلعم بن باعورہ کیا تھا اور پھر کیا ہو گیا، مال و دولت کے لالچ اور حرص و طمع نے اسے ایسا جکڑا کہ اس کے لالچ میں اللہ کے نبی کے لئے بد دعا کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ جب تک باادب تھا تو اسے وہ مقام و مرتبہ حاصل رہا کہ مستجاب الدعوات ہوا۔ مگر جب ایک نبی کا بے ادب ہوا اور ان کی شان و عظمت اور ناموس سے کھیلنے کے لئے آیا تو دنیا و آخرت میں ایسا ملعون و مردود ہوا کہ عمر بھر کتے کی طرح لٹکتی ہوئی زبان اپنے سینے پر لئے پھرا۔ سارے اعمال برباد ہوگئے تمام مراتب و کمالات چھین لئے گئے اور جھنم کی بھڑکتی ہوئی شعلہ بار آگ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایندھن بن گیا۔
حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالٰٰی کے بہت ہی برگزیدہ نبی گزرے ہیں۔ آُ پ کی عمر بہت لمبی تھی ۔ آپ تقریبا ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو دین حق کا پیغام سناتے رہے۔ مگر اس کے باوجود وہ غافل اور نا فرمان قوم آپ کی نبوت پر ایمان نہ لائی بلکہ آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دے کر شیطانی کردار ادا کرتی رہی۔ کئی بار ایسا بھی ہوا اس ظالم قوم نے اللہ کے اس مقدس نبی کو اس قدر اذیت پہنچائی کہ آپ کو ہوش کر دیا اور آپ کو مردہ خیال کر کے کپڑے میں لپیٹ کر مکان میں ڈال دیا۔ مگر اس کے باوجود آپ مسلسل ان کے حق میں دعا فرماتے ۔ اللہ تعالٰٰی کے غضب سے بچانے کے لئے آپ فرماتے ان کے لئے دعائے خیر کرتے۔ آپ فرماتے ! اے میرے رب تو میری قوم کو معاف فرمادے اور ان کو ہدایت عطا فرما۔ جب اس قوم کی نافرمانیاں حد سے تجاوز کر گئیں تو اللہ تعالٰی نے حضرت نوح علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی اور حکم ارشاد فرمایا“ اے نوح علیہ السلام اب تک جو لوگ مومن ہو چکے ہیں ان کے سوا دوسرے لوگ تم پر ایمان ہر گز نہیں لائیں گے۔ لہذا آپ ایک کشتی تیار کریں۔ حکم الہی سنتے ہی آپ کشتی تیار کرنے لگے جو 80 گز لمبی 50 گز چوڑی تھی۔ سو سال تک کی مسلسل جدوجہد کے بعد لکڑی کی یہ تاریخی کشتی تیار ہوئی۔ جب آپ کشتی بنانے میں مصروف تھے تو آپ کی نافرمان قوم آپ کا مذاق اڑاتی۔ کوئی کہتا اے نوح! تم بڑھئی کب سے بن گئے ۔ کوئی یہ کہتا اے نوح1 اس زمین پر کیا تم کشتی چلاؤ گے؟ کیا تمھاری عقل ماری گئی ہے ؟(نعوذ باللہ) غرض طرح طرح سے آپ کا مذاق اڑایا جاتا۔ آپ ان کے جواب میں صرف یہی فرماتے کہ اے نافرمانو! آج تم میرا مذاق اڑا رہے ہو جب خدا کا عذاب طوفان کی شکل میں آئے گا تو پھر تمہیں حقیقت کا پتہ چلے گا۔ اللہ تعالٰی نے وحی کے ذریعہ طوفان آنے کی یہ نشانی بتا دی کہ آپ کے گھر کے تنور سے پانی ابلنے شروع ہوگا ۔ چناچہ پتھر کے اس تنور سے ایک دن صبح صبح پانی ابلنا شروع ہو گیا۔ اسی طرح اللہ تعالٰی کے عذاب اور قہر و غضب کا آغاز ہوا آپ نے کشتی میں درندوں، چرندوں، پرندوں اور مختلف قسم کے حشرات الارض کا ایک ایک جوڑا نر مادہ سوار کرادیا۔ آپ اور آپ کے تین بیٹے حام، سام، یافث اور ان تینوں کی بیویاں آپ کی مومنہ بیوی اور 72 دیگر مومنین مرد و عورت اسی طرح کل 80 انسان کشتی میں سوار ہو گئے۔ آپ کی ایک بیوی جس کا نام واعلہ تھا آپ پر ایمان نہیں لائی تھی۔ اسی طرح آپ کا ایک بیٹا جس کا نام کنعان تھا وہ بھی آپ پر ایمان نہیں لایا تھا یہ دونوں کشتی میں سوار نہیں ہوئے ۔ زمین سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے اور سیاہ بادلوں نے زمین کو گھیر لیا اور مسلسل چالیس روز تک مسلادھار بارش برستی رہی اس طرح آسمان سے برسنے والا بارش کا پانی اور زمین سے نکلنے والے پانی کے دھاروں نے زمین پر ایسا طوفان برپا کیا کہ چالیس چالیس گز اونچے پہاڑوں کی چوٹیاں ڈوبنے لگیں۔ حضرت نوح علیہ السلام مومنین کی کل جماعت کے ہمراہ کشتی میں سوار تھے۔ اس طوفان نے زمین پر وہ تباہی مچائی کہ 80 مومنین کے سوا ساری قوم غرق ہو کر ہلاک ہو گئی اور ان کا نام و نشان ایسا مٹا کہ ان کے وجود کا کوئی حصہ بھی باقی نہ رہا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی چھ مہینے تک طوفانی موجوں پر ایک کمزور تنکے کی مانند ہچکولے کھاتی، چکر لگاتی رہی۔ یہاں تک کہ خانہ کعبہ کے قریب سے گزری اور سات چکر لگا کر اس مقدس جگہ کا طواف کیا۔ پھر اللہ تعالٰی کے حکم سے یہ کشتی عراق کے شہر جزیرہ کے قریب جودی پہاڑہ پر آکر ٹھر گئی ۔ جس دن یہ کشتی جودی پہاڑی پر ٹھری وہ دس محرم کا دن تھا۔ جب شیطان قوتوں کا خاتمہ ہو گیا تو اللہ تعالٰی نے زمین کو حکم دیا تجھ پر جس قدر پانی ہے سب پی لے ۔ اے آسمان تو اپنی بارش بند کر دے۔ چناچی بارش رک گئی اور پانی کم ہونا شروع ہوا اور پہاڑ کی چوٹیاں نظر آنے لگیں۔اللہ تعالٰی نے حجرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ اے نوح! اب آپ کشتی سے اتر جائے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی سے اتر کر سب سے پہلے جو پستی بسائی اس کا نام “ ثمانین “ رکھا۔ عربنی زبان میں ثمانین کے معنٰی (80) ہوتے ہیں۔ چونکہ کشتی میں 80 افراد تھے اس لئے اس کا نام ثمانین رکھا۔ آپ کی نسل میں بے پناہ برکت ہوئی کہ آپ کی اولاد تمام روئے زمین پر پھیل کر آباد ہو گئی۔ اسی لئے حضرت نوح علیہ السلام کا لقب “ آدم ثانی“ بھی ہے۔ اس تاریخ ساز واقعی کو تفصیلا قرآں مجید میں سورہ ہود کے چوتھے رکوع میں ملاحظہ کیجیئے اور تفسیرصاوی جلد دوئم صفحہ 182 تا 185 ملاحظہ کیجیئے ۔ مسلمانو! حضرت نوح علیہ السلام کے اس واقعہ میں بڑی بڑی عبرتوں کے سامان موجود ہیں جن سےمومنین کے قلوب انوار و تجلیات سے منور اور روشن ہو جاتے ہیں اور شیطان کے پیروکار اور نبی کے گستاخوں کے سر ندامت سے جھک جاتے ہیں ۔ کنعان حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا تھا مگر بے ادب تھا وہ بھی غضب الہی کا شکار ہوا جس سے واضح ہوا کہ اللہ کو بھی وہ لوگ پسند ہیں جن کے دل میں اللہ اور اس کے محبوب نبیوں کے عشق کا چراغ روشن ہو اگر کسی کے دل میں یہ چراغ شعلہ زن نہیں تو خواہ وہ کتنا ہی عزیز اور قریب کیوں نہ ہو اللہ کے قہر کا شکار ہو جاتا ہے اور انبیاء کی شان میں کستاخی کرنے والوں کو عذاب الہٰی اپنی گرفت میں لیکر نیست و نابود کر ڈالتا ہے۔