Showing posts with label قصص الانبیاء. Show all posts
Showing posts with label قصص الانبیاء. Show all posts

Friday, December 12, 2014

واقعہ ملکہ بلقیس اور اس کا تخت


واقعہ ملکہ بلقیس اور اس کا تخت:۔

یوں تو سبھی پرندے حضرت سلیمان علیہ السلام کے مسخر اور تابع فرمان تھے لیکن آپ کا ہُدہُد آپ کی فرماں برداری اور خدمت گزاری میں بہت مشہور تھا۔ اسی ہُدہُد نے آپ کو ملک سبا کی ملکہ ''بلقیس'' کے بارے میں خبر دی تھی کہ وہ ایک بہت بڑے تخت پر بیٹھ کر سلطنت کرتی ہے اور بادشاہوں کے شایانِ شان جو بھی سروسامان ہوتا ہے وہ سب کچھ اس کے پاس ہے مگر وہ اور اس کی قوم ستاروں کے پجاری ہیں۔ اس خبر کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کے نام جو خط ارسال فرمایا، اس کو یہی ہُدہُد لے کر گیا تھا۔ چنانچہ قرآن کریم کاارشاد ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔
''تم میرا یہ خط لے کر جاؤ۔ اور ان کے پاس یہ خط ڈال کر پھر ان سے الگ ہو کر تم دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔'' (پ ۱۹، النمل، ۲۸)


چنانچہ ہُدہُد خط لے کر گیا اور بلقیس کی گود میں اس خط کو اوپر سے گرادیا۔ اس وقت اس نے اپنے گرد امراء اور ارکانِ سلطنت کا مجمع اکٹھا کیا پھر خط کو پڑھ کر لرزہ براندام ہوگئی اور اپنے اراکین سے یہ کہا کہ
ترجمہ قرآن:''اے سردارو!بے شک میری طرف ایک عزت والا خط ڈالا گیا بے شک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بے شک وہ اللہ کے نام سے ہے جو نہایت مہربان رحم والا یہ کہ مجھ پر بلندی نہ چاہو اورگردن رکھتے میرے حضور حاضر ہو۔ (پ ۱۹، النمل، ۲۹ تا ۳۱)


خط سنا کر بلقیس نے اپنی سلطنت کے امیروں اور وزیروں سے مشورہ کیا تو ان لوگوں نے اپنی طاقت اور جنگی مہارت کا اعلان و اظہار کر کے حضرت سلیمان علیہ السلام سے جنگ کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس وقت عقلمند بلقیس نے اپنے امیروں اور وزیروں کو سمجھایا کہ جنگ مناسب نہیں ہے کیونکہ اس سے شہر ویران اور شہر کے عزت دار باشندے ذلیل و خوار ہوجائیں گے۔ اس لئے میں یہ مناسب خیال کرتی ہوں کہ کچھ ہدایا و تحائف اُن کے پاس بھیج دوں اس سے امتحان ہوجائے گا کہ حضرت سلیمان صرف بادشاہ ہیں یا اللہ عزوجل کے نبی بھی ہیں۔ اگر وہ نبی ہوں گے تو ہرگز میرا ہدیہ قبول نہیں کریں گے بلکہ ہم لوگوں کو اپنے دین کے اتباع کا حکم دیں گے اور اگر وہ صرف بادشاہ ہوں گے تو میرا ہدیہ قبول کر کے نرم ہو جائیں گے۔ چنانچہ بلقیس نے پانچ سو غلام پانچ سو لونڈیاں بہترین لباس اور زیوروں سے آراستہ کر کے بھیجے اور ان لوگوں کے ساتھ پانچ سو سونے کی اینٹیں، اور بہت سے جواہرات اور مشک و عنبر اور ایک جڑاؤ تاج مع ایک خط کے اپنے قاصد کے ساتھ بھیجا۔ ہُدہُد سب دیکھ کر روانہ ہو گیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں آکر سب خبریں پہنچادیں۔ 

چنانچہ بلقیس کا قاصد جب چند دنوں کے بعد تمام سامانوں کو لے کر دربار میں حاضر ہوا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے غضب ناک ہو کر قاصد سے فرمایا۔

(پ19،النمل:36،37)

ترجمہ قرآن:۔ فرمایا کیا مال سے میری مدد کرتے ہو تو جو مجھے اللہ نے دیا وہ بہتر ہے اس سے جو تمہیں دیا بلکہ تمہیں اپنے تحفہ پر خوش ہوتے ہو پلٹ جا ان کی طرف تو ضرور ہم ان پر وہ لشکر لائیں گے جن کی انہیں طاقت نہ ہو گی اور ضرور ہم ان کو اس شہر سے ذلیل کر کے نکال دیں گے یوں کہ وہ پست ہوں گے۔

چنانچہ اس کے بعد جب قاصد نے واپس آکر بلقیس کو سارا ماجرا سنایا تو بلقیس حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر ہو گئی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا دربار اور یہاں کے عجائبات دیکھ کر اس کو یقین آگیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام خداعزوجل کے نبی برحق ہیں اور ان کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ 

حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کواپنے دین کی دعوت دی تو اُس نے نہایت ہی اخلاص کے ساتھ اسلام قبول کرلیا پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس سے نکاح کر کے اس کو اپنے محل میں رکھ لیا۔
اس سلسلے میں ہُدہُد نے جو کارنامے انجام دیئے وہ بلاشبہ عجائبات عالم میں سے ہیں۔ جو یقینا حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزات میں سے ہیں۔


تختِ بلقیس کیا تھا اور کس طرح آیا

ملکہ سبا ''بلقیس''کا تختِ شاہی اَسّی گز لمبا اور چالیس گز چوڑا تھا ،یہ سونے چاندی اور طرح طرح کے جواہرات اور موتیوں سے آراستہ تھا، جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کے قاصد اور اُس کے ہدایا و تحائف کو ٹھکرا دیا اور اُس کو یہ حکم نامہ بھیجا کہ وہ مسلمان ہو کر میرے دربار میں حاضر ہوجائے تو آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ بلقیس کے یہاں آنے سے پہلے ہی اُس کا تخت میرے دربار میں آجائے چنانچہ آپ نے اپنے دربار میں درباریوں سے یہ فرمایا:۔

(پ 19،النمل: 38،39)

ترجمہ قرآن:سلیمان نے فرمایا اے درباریو! تم میں کون ہے کہ وہ اس کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس کے کہ وہ میرے حضور مطیع ہو کر حاضر ہوں ایک بڑا جن بولا میں وہ تخت حضور میں حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ حضور اجلاس برخاست کریں اور میں بیشک اس پر قوت والا امانت دار ہوں۔ 

جنّ کا بیان سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس سے بھی جلد وہ تخت میرے دربار میں آجائے۔ یہ سن کر آپ کے وزیر حضرت ''آصف بن برخیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اسم اعظم جانتے تھے اور ایک باکرامت ولی تھے۔ انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کیا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
(پ19،النمل:40)


ترجمہ قرآن:۔اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے۔

چنانچہ حضرت آصف بن برخیا نے روحانی قوت سے بلقیس کے تخت کو ملک سبا سے بیت المقدس تک حضرت سلیمان علیہ السلام کے محل میں کھینچ لیا اور وہ تخت زمین کے نیچے نیچے چل کر لمحہ بھر میں ایک دم حضرت سلیمان علیہ السلام کی کرسی کے قریب نمودار ہو گیا۔

تخت کو دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ کہا:۔

(پ19،النمل:40)

ترجمہ قرآن:۔یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بے پرواہ ہے سب خوبیوں والا۔

حضرت خضر علیہ السلام اور آب ِ حیات کی حقیقت


حضرت خضر علیہ السلام اور آب ِ حیات کی حقیقت

حضرت خضر علیہ السلام کی کنیت ابو العباس اور نام ''بلیا'' اور ان کے والد کا نام ''ملکان'' ہے۔ ''بلیا'' سریانی زبان کا لفظ ہے۔ عربی زبان میں اس کا ترجمہ ''احمد'' ہے۔ ''خضر'' ان کا لقب ہے اور اس لفظ کو تین طرح سے پڑھ سکتے ہیں۔ خَضِر، خَضْر، خِضْر۔
''خضر'' کے معنی سبز چیز کے ہیں۔ یہ جہاں بیٹھتے تھے وہاں آپ کی برکت سے ہری ہری گھاس اُگ جاتی تھی اس لئے لوگ ان کو ''خضر'' کہنے لگے۔
یہ بہت ہی عالی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور ان کے آباؤ اجداد بادشاہ تھے۔ بعض عارفین نے فرمایا ہے کہ جو مسلمان ان کا اور ان کے والد کا نام اور ان کی کنیت یاد رکھے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ اُس کا خاتمہ ایمان پر ہو گا۔ (صاوی، ج۴،ص۱۲۰۷،پ۱۵،الکہف:۶۵)

تو آپ بھی ہوسکے تو اس کنیت کو یاد رکھئے گا۔ ابوالعباس بلیا بن ملکان۔

یہ حضرت خضر علیہ السلام حضرت ذوالقرنین کے خالہ زاد بھائی بھی تھے۔ حضرت خضر علیہ السلام حضرت ذوالقرنین کے وزیر اور جنگلوں میں علمبردار رہے ہیں۔ یہ حضرت سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت ذوالقرنین حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دست حق پرست پر اسلام قبول کر کے مدتوں اُن کی صحبت میں رہے اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ان کو کچھ وصیتیں بھی فرمائی تھیں۔ (صاوی،ج۴،ص۱۲۱۴،پ۱۶، الکہف:۸۳)

تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام کا دور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور کے فوری بعد کا ہی ہے۔

کیا حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں۔

اس میں کچھ علماء نے اختلاف کیا ہے۔ لیکن جمہور علماء (یعنی کثیر علماء) کی یہ ہی رائے ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ بلکہ ان کی ملاقات حضرت موسی علیہ السلام سے بھی ثابت ہے حالانکہ آپ کا دور حضرت موسی علیہ السلام سے کئی سوبرس پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور کے فوری بعد کا ہے۔
تفسیر روح البیان میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پڑپوتے ہیں ان کے درمیان اور اور حضر ت موسی علیہ السلام کے درمیان 400 سال کا فرق ہے۔

تو اس لحاظ سے حضرت موسی علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام سے تقریبا 600 سال بعد پیدا ہوئے ہوں گے۔ واللہ تعالی اعلم

امام بدر الدین عینی صاحب شرح بخاری نے ان کے متعلق لکھا ہے کہ جمہور کا مذ ہب یہ ہے اور صحیح بھی یہ ہے کہ وہ نبی تھے ۔اور زندہ ہیں ۔ (عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری مصنف بدرالدین العینی ۔کتاب العلم،باب ما ذکرفی ذہاب موسی، ج۲،ص۸۴،۸۵)

خدمت بحر(یعنی سمندر میں لوگوں کی رہنمائی کرنا) ا ِنہیں سے متعلق(یعنی انہیں کے سپرد ) ہے اور
اِلیاس علیہ السلام '' بَرّ ''(خشکی) میں ہیں۔(الاصابۃ فی تمیزالصحابۃ،حرف الخاء المعجمۃ،باب ماوردفی تعمیرہ،ج۲،ص۲۵۲)

اسی طرح تفسیر خازن میں ہے کہ ۔اکثر عُلَماء اس پر ہیں اور مشائخِ صوفیہ و اصحابِ عرفان کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں ۔ شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت خضر و الیاس دونوں زندہ ہیں اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ یہ بھی اسی میں منقول ہے کہ حضرت خضر نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی پیا۔

اسی طرح تفسیر صاوی میں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ صحابی بھی ہیں۔ (صاوی، ج۴،ص۱۲۰۸،پ ۱۵، الکہف:۶۵)

اسی طرح حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ان کی ملاقات ثابت ہے۔اور حضرت خضر علیہ السلام نے ان کو نصیحت بھی فرمائی تھی ۔ کہ اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات سے بچنا کہ تو ظاہر میں تو خدا کا دوست ہو اور باطن میں اس کا دشمن کیونکہ جس کا ظاہر اورباطن مساوی نہ ہو تو منافق ہوتاہے اور منافقوں کا مقام درک اسفل ہے ۔یہ سن کر عمربن عبدالعزیزرضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں تک روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔ (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص39)

اور بھی بزرگان دین نے ان سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔واللہ تعالی اعلم

آب حیات کی حقیقت:۔

آب حیات کے متعلق بہت اختلاف ہے۔ بعض لوگ اس کو ایک افسانے کے علاوہ کچھ نہیں کہتے ۔ کیونکہ آب حیات کا تذکرہ نہ قرآن میں ہے نہ ہی کسی صیحح حدیث میں۔

ہاں کچھ علماء کرام نے اس کا تذکرہ اپنی تفسیر میں حضرت ذوالقرنین کے پہلے سفر کے ذمرے میں کیا ہے۔

جیسے کہ تفسیر خزائن العرفان پ۱۶، الکہف: ۸۶تا ۹۸ میں نقل ہے۔حضرت ذوالقرنین نے پرانی کتابوں میں پڑھا تھا کہ سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک شخص چشمہ ء حیات سے پانی پی لے گا تو اس کو موت نہ آئے گی۔ اس لئے حضرت ذوالقرنین نے مغرب کا سفر کیا۔ آپ کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام بھی تھے وہ تو آب ِ حیات کے چشمہ پر پہنچ گئے اور اس کا پانی بھی پی لیا مگر حضرت ذوالقرنین کے مقدر میں نہیں تھا، وہ محروم رہ گئے۔ اس سفر میں آپ جانب مغرب روانہ ہوئے تو جہاں تک آبادی کا نام و نشان ہے وہ سب منزلیں طے کر کے آپ ایک ایسے مقام پر پہنچے کہ انہیں سورج غروب کے وقت ایسا نظر آیا کہ وہ ایک سیاہ چشمہ میں ڈوب رہا ہے۔ جیسا کہ سمندری سفر کرنے والوں کو آفتاب سمندر کے کالے پانی میں ڈوبتا نظر آتا ہے۔ وہاں ان کو ایک ایسی قوم ملی جو جانوروں کی کھال پہنے ہوئے تھی۔ ا س کے سوا کوئی دوسرا لباس ان کے بدن پر نہیں تھا اور دریائی مردہ جانوروں کے سوا ان کی غذا کا کوئی دوسرا سامان نہیں تھا۔ یہ قوم ''ناسک''کہلاتی تھی۔ حضرت ذوالقرنین نے دیکھا کہ ان کے لشکر بے شمار ہیں اور یہ لوگ بہت ہی طاقت ور اور جنگجو ہیں۔ تو حضرت ذوالقرنین نے ان لوگوں کے گرد اپنی فوجوں کا گھیرا ڈال کر ان لوگوں کو بے بس کردیا۔ چنانچہ کچھ تو مشرف بہ ایمان ہو گئے کچھ آپ کی فوجوں کے ہاتھوں مقتول ہو گئے۔

اسی طرح تفسیر خازن اور شیخ ابو عمرو بن صلاح نے اپنے فتاوٰی میں فرمایا کہ حضرت خضر اور الیا جمہور عُلَماء و صالحین کے نزدیک زندہ ہیں ،اور ہر سال زمانۂ حج میں ملتے ہیں ۔ اور یہ کہ حضرت خضر نے چشمۂ حیات میں غسل فرمایا اور اس کا پانی بھی پیا تھا۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔

بس آب حیات یا چشمہ حیات کی اتنی حقیقت ہی کتب میں لکھی ہے۔مگر اصل حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ واللہ تعالی اعلم

حضرت ادریس علیہ السلام


حضرت یوسف اور ان کے برادران کا قصہ


حضرت یوسف اور ان کے برادران کا قصہ
داستان عشق یا پاكیزگى كا بہترین سبق

حضرت یوسف علیہ السلام كے واقعہ كو بیان كرنے سے پہلے چند چیزوں كا بیان كرنا ضرورى ہے:
بے ہدف داستان پردازوں یا پست اور غلیظ مقاصد ركھنے والوں نے اس اصلاح كنندہ واقعہ كو ہوس بازوں كے لئے ایك عاشقانہ داستان بنانے اور حضرت یوسف علیہ السلام او ران كے واقعات كے حقیقى چہرے كو مسخ كرنے كى كوشش كى ہے،یہاں تك كہ انھوں نے اسے ایك رومانى فلم بناكر پردہ سیمیں پر پیش كرنا چاہا ہے ،لیكن قرآن مجید نے كہ جس كى ہر چیز نمونہ اور اسوہ ہے اس واقعے كے مختلف مناظرسے پیش كرتے ہوئے اعلى ترین عفت وپاكدامنی، خوداری، تقوى ،ایمان اور ضبط نفس كے درس دئے ہیں اس طرح سے كہ ایك شخص اسے جتنى مرتبہ بھى پڑھے ان قوى جذبوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سكتا۔
اسى بنا پر قرآن نے اسے ”احسن القصص” (بہترین داستان) جیسا خوبصورت نام دیا ہے اور اس میں صاحبان فكرونظر كے لئے متعدد عبرتیں بیان كى ہیں ۔
قہرمان پاكیزگی

اس واقعہ میں غوروفكر سے یہ حقیقت واضح ہو تى ہے كہ قرآن تمام پہلو ئوں سے معجزہ ہے اور اپنے واقعات میں جو ہیرو پیش كرتا ہے وہ حقیقى ہیرو ہو تے ہیں نہ كہ خیا لى كہ جن میں سے ہر ایك اپنى نو عیت كے اعتبار سے بے نظیر ہو تا ہے ۔
حضرت ابراہیم ،وہ بت شكن ہیرو ،جن كى روح بلند تھى اور جو طاغوتیوں كى كسى سازش میں نہ آئے ۔
حضرت نو ح،طویل اور پر بر كت عمرمیں ۔ صبر واستقا مت،پا مردى اور دلسوزى كے ہیرو بنے۔
حضرت مو سى وہ ہیر و كہ جنہوں نے ایك سركش اور عصیان گر طاغوت كے مقابلے كے لئے ایك ہٹ دھرم قوم كو تیار كرلیا ۔
حضرت یوسف ;ایك خوبصورت ،ہو س باز اور حیلہ گر عورت كے مقابلے میں پاكیز گى ، پارسائی اور تقوى كے ہیرو بنے۔
علاوہ ازیں اس واقعے میں قرآنى وحى كى قدرت بیان اس طرح جھلكتى ہے كہ انسان حیرت زدہ ہو جاتا ہے كیونكہ جیسا كہ ہم جانتے ہیں كئی مواقع پر یہ واقعہ عشق كے بہت ہى باریك مسائل تك جا پہنچتاہے اور قرآن انہیں چھوڑ كر ایك طرف سے گزر ے بغیر ان تمام مناظر كو ان كى بار یكیوں كے سا تھ اس طرح سے بیان كرتا ہے كہ سا مع میں ذرہ بھر منفى اور غیر مطلوب احساس پیدا نہیں ہوتا ۔ قرآن تمام واقعات كے تن سے گزر تا ہے لیكن تمام مقامات پر تقوى وپاكیزگى كى قوى شعاعوں نے مباحث كا احا طہ كیا ہوا ہے ۔
حضرت یوسف علیہ السلام كا واقعہ اسلام سے پہلے اور اسلام كے بعد

اس میں شك نہیں كہ قبل از اسلام بھى داستان یوسف لوگوں میں مشہور تھى كیو نكہ تو ریت میں سفر پید ائش كى چو دہ فصلوں (فصل 37تا 50) میں یہ واقعہ تفصیل سے مذكورہے ۔ البتہ ان چودہ فصلوں كا غور سے مطا لعہ كیا جا ئے تو یہ بات ظاہر ہو تى ہے كہ توریت میں جو كچھ ہے وہ قرآن سے بہت ہى مختلف ہے ۔ ان اختلافات كے موازنے سے معلوم ہو تا ہے كہ جو كچھ قرآن میں آیا ہے وہ كس حد تك پیراستہ اور ہر قسم كے خرافات سے پاك ہے۔ یہ جو قرآن پیغمبر سے كہتا ہے :”اس سے پہلے آپ كو علم نہیں تھا ،،اس عبرت انگیز داستا ن كى خالص واقعیت سے ان كى عدم آگہى كى طرف اشارہ ہے۔ (اگر احسن القصص سے مراد واقعہ یوسف ہو ) ۔ موجود ہ توریت سے ایسا معلوم ہوتا ہے كہ حضرت یعقوب نے جب حضرت یوسف كى خون آلود قمیص دیكھى تو كہا :”یہ میرے بیٹے كى قبا ہے جسے جانور نے كھا لیا ہے یقینا یوسف چیر پھاڑڈالا گیا ہے ۔ ”
پھر یعقوب نے اپنا گریبان چا ك كیا ٹاٹ اپنى كمر سے باند ھا اور مدت دراز تك اپنے بیٹے كے لئے گریہ كرتے رہے، تمام بیٹوں اور بیٹیوں نے انہیں تسلى دینے میں كسراٹھا نہ ركھى لیكن انہیں قرار نہ آیا اور كہا كہ میں اپنے بیٹے كے ساتھ اسى طرح غمزدہ قبر میں جائوں گا ۔
جبكہ قرآن كہتا ہے كہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنى فراست سے بیٹوں كے جھوٹ كو بھانپ گئے اور انہوں نے اس مصیبت میں داد وفریاد نہیں كى اور نہ اضطراب دكھا یا بلكہ جیسا كہ انبیاء علیہم السلام كى سنت ہے اس مصیبت كا بڑے صبر سے سا منا كیا اگر چہ ان كا دل جل رہا تھا، آنكھیں اشكبار تھیں ، فطر ى طور پر كثرت گریہ سے ان كى بینا ئی جاتى رہى ۔ لیكن قرآن كى تعبیر كے مطابق انہوں نے صبر جمیل كا مظاہرہ كیا اور اپنے اوپر قابو ركھا ۔انہوں نے گریبان چاك كر نے ، دادو فریاد كرنے اور پھٹے پرا نے كپڑے پہنے سے گریز كیا جو كہ عزادارى كى مخصوص علامات تھیں ۔
بہر حال اسلام كے بعد بھى یہ واقعہ مشرق مغرب كے مو رخین كى تحریروں میں بعض اوقات حاشیہ آرائی كے ساتھ آیا ہے فارسى اشعار میں سب سے پہلے ”یوسف زلیخا ،،كے قصے كى نسبت فردوسى كى طرف دى جاتى ہے اس كے بعد شہاب الدین عمق اور مسعودى قمى كى ”یوسف زلیخا”ہے اور ان كے بعد نویں صدى كے مشہور شاعر عبدالرحمن جامى كی” یوسف زلیخا ”ہے ۔
احسن القصص

قران میں داستان یوسف كو شروع كرتے ہوئے خدافرماتا ہے:”ہم اس قران كے ذریعہ (جو اپ پر وحى ہوتى ہے )،كے ذریعہ ”احسن القصص ”بیان كرتے ہیں ”۔ ( سورہ یوسف آیت 3)یہ واقعہ كیسے بہترین نہ ہو جب كہ اس كے ہیجان انگیز پیچ وخم میں زندگى كے اعلى تر ین دروس كى تصویر كشى كى گئی ہے ۔ اس واقعے میں ہر چیز پر خدا كے اراد ے كى حاكمیت كا ہم اچھى طرح مشاہدہ كرتے ہیں ۔
حسد كرنے والوں كا منحوس انجام ہم اپنى آنكھوں سے دیكھتے ہیں اوران كى سازشوں كونقش بر آب ہو تے ہو ئے دیكھتے ہیں ۔
بے عفتى كى عارو ننگ اور پارسا ئی وتقوى كى عظمت وشكوہ اس كى سطور میں ہم مجسم پاتے ہیں كنویں كى گہرائی میں ایك ننھے بچے كى تنہائی، زندان كى تاریك كو ٹھرى میں ایك بے گناہ قیدى كے شب وروز ، یاس ونا امیدى كے سیاہ پردوں كے پیچھے نو ر امید كى تجلى اور آخر كار ایك وسیع حكو مت كى عظمت وشكوہ كہ جو آگاہ ہى وامانت كا نتیجہ ہے یہ تمام چیز یں اس داستان میں انسان كى آنكھوں كے سامنے سا تھ سا تھ گزر تى ہیں ۔
وہ لمحے كہ جب ایك معنى خیز خواب سے ایك قوم كى سر نوشت بدل جاتى ہے ۔
وہ وقت كہ جب ایك قوم كى زندگى ایك بیدا ر خدا ئی زمام دار كے علم وآگہى كے زیر سا یہ نابودى سے نجات پالیتى ہے ۔
اور ایسے ہى دسیوں درس ، جس داستا ن میں مو جود ہوں وہ كیوں نہ ”احسن القصص”ہو ۔
البتہ یہى كافى نہیں كہ حضرت یوسف علیہ السلام كى داستان ”احسن القصص” ہے اہم بات یہ ہے كہ ہم میں یہ لیاقت ہو كہ یہ عظیم درس ہمارى روح میں اتر جائے۔
بہت سے ایسے لوگ ہیں جو حضرت یوسف علیہ السلام كے واقعہ كو ایك اچھے رومانوى واقعہ كے عنوان سے دیكھتے ہیں ، ان جا نو روں كى طرح جنھیں ایك سر سبز وشاداب اور پھل پھو ل سے لدے ہوئے باغ میں صرف كچھ گھا س نظر پڑتى ہے كہ جو ان كى بھو ك كو زائل كردے ۔
ابھى تك بہت سے ایسے لوگ ہیں كہ جو اس داستا ن كو جھو ٹے پر وبال دے كر كوشش كرتے ہیں كہ اس سے ایك رومانوی (Romantic)داستان بنا لیں جب كہ اس واقعہ كے لئے یہ بات نا شائستہ ہے اور اصل داستان میں تمام اعلى انسا نى قدر یں جمع ہیں آئند ہ صفحات میں ہم دیكھیں گے كہ اس واقعہ كے جامع خو بصورت پیچ وخم كو نظر انداز كر كے نہیں گزرا جاسكتا ایك شاعر شیریں سخن كے بقول :
”كبھى كبھى اس داستان كے پر كشش پہلوئوں كى مہك انسا ن كو اس طرح سر مست كر دیتى ہے كہ وہ بے خود ہو جاتا ہے۔ ”
امید كى كرن او ر مشكلات كى ابتدا ء

حضرت یوسف علیہ السلام كے واقعے كا آغاز قرآن ان كے عجیب اور معنى خیز خواب سے كرتا ہے كیونكہ یہ خواب دراصل حضرت یوسف كى تلا طم خیز زندگى كا پہلاموڑ شمار ہو تا ہے ۔
ایك دن صبح سویر ے آپ بڑے شوق اور وار فتگى سے باپ كے پاس آئے اور انہیں ایك نیا واقعہ سنا یا جو ظا ہر اً كو ئی زیادہ اہم نہ تھا لیكن درحقیقت ان كى زندگى میں ایك تازہ با ب كھلنے كا پتہ دے رہا تھا ۔
”یو سف نے كہا :ابا جان : یاد کرو جب یوسف نے اپنے با پ سے کہا اے میرے باپ میں نے گیارہ تارے اور سورج اور چاند دیکھے انہیں اپنے لیے سجدہ کرتے دیکھا ۔ ‘(سورہ یوسف آیت 4)حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ خواب شب جمعہ دیكھا تھا كہ جو شب قدر بھى تھى (وہ رات جو مقدرات كے تعین كى رات ہے ) ۔
یہاں پر سوال یہ پید ا ہوتا ہے كہ حضرت یوسف نے جب یہ خواب دیكھا اس وقت آپ كى عمر كتنے سال تھى ‘اس سلسلے میں بعض نے نو سال’ بعض نے بارہ سال اور بعض نے سات سال عمر لكھى ہے جو بات مسلم ہے وہ یہ ہے كہ اس وقت آپ بہت كم سن تھے ۔
اس ہیجان انگیز اور معنى خیز خواب پر خدا كے پیغمبر یعقوب فكر میں ڈوب گئے كہ سورج ،چاند اور آسمان كے گیارہ ستارے ،وہ گیا رہ ستارہ نیچے اترے اور میرے بیٹے یوسف كے سامنے سجدہ ریز ہو گئے ۔
یہ كس قدر معنى آفر یں ہے یقینا سورج اور چاند میں اور اس كى ماں (یامَین اور اس كى خالہ ) ہیں اور گیارہ ستارے اس كے بھائی ہیں میرے بیٹے كى قدر ومنزلت اور مقام اس قدر بلند ہو گا كہ آسمان كے ستارے ، سورج اور چاند اس كے آستا نہ پر جبیں سائی كریں گے یہ بار گاہ الہى میں اس قدر عزیز اور باوقار ہو گا كہ آسمان والے بھى اس كے سامنے خضوع كریں گے كتنا پر شكوہ اور پر كشش خواب ہے ۔
لہذا پریشانى اور اضطراب كے انداز میں كہ جس میں ایك مسرت بھى تھى ،اپنے بیٹے سے كہنے لگے  کہا اے میرے بچے اپنا خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے ( سورہ یوسف آیت 5)
وہ مو قع كى تاڑمیں ہے تا كہ اپنے وسوسو ں كا آغاز كرے ، كینہ وحسد كى آگ بھڑ كا ئے یہا ں تك كہ بھا ئیوں كو ایك دوسرے كا دشمن بنادے۔ لیكن یہ خواب صرف مستقبل میں یو سف كے مقام كى ظاہرى ومادى عظمت بیان نہیں كرتا تھا بلكہ نشا ندہى كرتا تھا كہ وہ مقام نبوت تك بھى پہچنیں گے كیونكہ آسمان والو ں كا سجدہ كرنا آسمانى مقام كے بلند ى پر پہنچنے كى دلیل ہے اسى لئے تو ان كے پدر بزر گوار حضرت یعقوب نے مزید كہا :
اور اسی طرح تجھے تیرا رب چن لے گا اور تجھے باتوں کا انجام نکالنا سکھائے گا اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر جس طرح تیرے پہلے دنوں باپ دادا ابراہیمؑ اور اسحٰقؑ پر پوری کی بیشک تیرا رب علم و حکمت والا ہے۔ ”(سورہ یوسف آیت 6)

ابلیس نوح علیہ السلام کے سفینے میں


ملک الموت کی حضرت سلیمان علیہ السلام سے ملاقات


حضرت سلیمان علیہ السلام کی بے مثل وفات

حضرت سلیمان علیہ السلام کی بے مثل وفات



السلام علیکم
ملک شام میں جس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خیمہ گاڑا گیا تھا ٹھیک اسی جگہ حضرت داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی مگر عمارت پوری ہونے سے قبل ہی حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کا وقت آن پہنچا۔اور آپ نے اپنے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام کو اس عمارت کی تکمیل کی وصیت فرمائی چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی جماعت کو اس کام پر لگایا اور عمارت کی تعمیر ہوتی رہی۔یہاں تک کہ آپ کی وفات کا وقت بھی قریب آگیااور عمارت مکمل نہ ہو سکی تو آپ نےیہ دعا مانگی کہ الٰہی میری موت جنوں کی جماعت پر ظاہر نہ ہونے پائےتاکہ وہ برابر عمارت کی تکمیل میں مصروف رہیں اور ان سبھوں کو علم غیب کا جو دعویٰ ہے وہ بھی باطل ٹھہر جائے۔یہ دعا مانگ کر آپ محرا ب میں داخل ہو گئےاور اپنی عادت کے مطابق اپنی لاٹھی ٹیک کر عبادت میں کھڑے ہو گئےاور اسی حالت میں آپ کی وفات ہو گئی مگر جن مزدور یہ سمجھ کر کہ آپ زندہ کھڑے ہوئےہیں۔برابر کام میں مصروف رہےاور عرصہ دراز تک آپ کا اس حالت میں رہنا جنوں کے گروہ کے لیے کچھ باعث حیرت اس لیے نہیں ہواکہ وہ بارہا دیکھ چکے تھےکہ آپ ایک ایک ماہ بلکہ کبھی کبھی دو دو ماہ برابر عبادت میں کھڑے رہا کرتےتھے۔یہاں تک کہ بحکم الٰہی دیمک نے آپ کے عصا کو کھا لیااورعصا گر جانے کے سے آپ کا جسم مبارک زمین پر آگیا اور اس وقت جنوں کی جماعت اور تمام انسانوں کو پتہ چلا کہ آپ کی وفات ہو گئی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس واقعہ کو ان لفظوں میں بیان فرمایا ہےکہ
"پھر جب ہم نے ان (حضرت سلیمان )پر موت کا حکم بھیجا تو جنوں کو ان کی موت دیمک ہی نے بتا ئی جو ان کے عصا کو کھا رہی تھی پھر جب حضرت سلیمان زمیں پر آگئےتو جناں کی حقیقت کھل گئی اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو وہ اس ذلت کے عذاب میں اتنی دیر تک نہ پڑے رہتے۔"(سورہ سبا۔رکوع2 پارہ22)

حضرت عیسی علیہ السلام اور فقر اختیاری


حضرت عیسی علیہ السلام اور فقر اختیاری 
سیدنا مسیح علیہ السلام کی پوری زندگی فقر سے عبارت ہے آپ نے دنیوی جاہ و حشمت کو پرکاہ کی بھی حیثیت نہ دی۔ آپ کا خاندان بڑھئی کے پیشے سے منسلک تھا اور بائیبل کی رو سے آپ نے اپنی جوانی تک اسی پیشہ کو اختیار کئے رکھا۔ آپ علیہ السلام کا فقر اختیاری تھا۔ اضطراری نہیں تھا۔ آپ چاہتے تو دولت آپ کے قدم چومتی لیکن آپ دنیاوی مال متاع کو راہ کا روڑا یقین کرتے تھے۔ نہ صرف آپ نے فقر کی زندگی کو خود ترجیح دی بلکہ اپنے ماننے والوں کو بھی فقر کی زندگی اختیار کرنے کی تعلیم دی۔
1- آپ نے تمثیلی انداز تبلیغ اختیار فرمایا۔ اور اپنے ارد گرد کی علامات کو ابلاغ کا ذریعہ بنایا دو مالکوں کی تفصیل بیان کرکے فقر کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں "تم خدا اور دولت دونوں کی غلامی نہیں کرسکتے" (متی 24:6)
2- پرندوں اور سوسنوں کی تمثیل بیان فرما کر یہ احساس دلاتے ہیں کہ رزق کا ذمہ اللہ نے لے لیا ہے۔ پرندے ذخیرہ نہیں کرتے۔ صبح اٹھ کر زمین پر پھیل جاتے ہیں اور انہیں رازق مل جاتا ہے سوسن کا پودہ زمین سے بغیر کوشش کے خوراک حاصل کرلیتا ہے انسان کو اللہ پر توکل کرنا چاہئے اس تمثیل کے بعد فرماتے ہیں۔ "پس کل کے دن کےلئے فکر نہ کرو" (متی 34:6)
3- ایک امیر آدمی نے آخری نجات کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا "جا اور اپنا سب کچھ بیچ ڈال اور غریبوں کو عطا کر۔ تو تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا۔ اور آکر میرے پیچھے ہولے" (مرقس 10تا21)
4- دنیا کی بضاعتیں و آخرت کی بقاء کی طرف توجہ مبذول کراتے ہیں اور آخرت کی بہتری کےلئے انفاق فی سبیل اللہ کی تلقین کرتے ہیں۔
"اپنے واسطے زمین پر خزانہ جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاکر چراتے ہیں۔ بلکہ اپنے لئے آسمان پر خزانہ جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے اور نہ چور نقب لگا کر چراتے ہیں۔ کیونکہ جہاں تیرا خزانہ ہے وہیں تیرا دل بھی ہوگا۔" (متی 19:6تا21)
5- حضرت مسیح علیہ السلام ایک نادان ساھوکار کی تفصیل بیان فرماتے ہیں۔ اس ساھوکار کے پاس اس قدر غلہ ہوا کہ رکھنے کی جگہ نہ رہی۔ اس نے چھوٹے چھوٹے مکانات کو گرا کر بڑے مکانات بنائے اور پوری فصل ذخیرہ کردی اور سوچا کہ اب مجھے کوئی فکر نہیں۔ پوری زندگی عیش سے بسر ہوگی لیکن وہ اسی دن مرگیا۔ اور اس کی دولت نے اسے کوئی فائدہ نہ دیا۔ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں
"ایسا ہی وہ ہے جو اپنے لئے خزانہ جمع کرتا ہے اور خدا کے نزدیک دولتمند نہیں" (لوقا 16:12تا21)
لوگوں نے جب مسیح علیہ السلام کے معجزات کو دیکھا تو آپ کی راہ پر گامزن ہونے کی التجا کی۔ ایک جگہ آپ فرماتے ہیں۔ کہ برج بنانے سے پہلے اخراجات کا حساب کرلینا ضروری ہے۔ اسی طرح جنگ سے پہلے بادشاہ دشمن کی طاقت کا خوب اندازہ کرلیتا ہے تم بھی میری تقلید سے پہلے خوب سوچ لو۔ آپ فرماتے ہیں
"جو کوئی تم میں اپنا سب کچھ ترک نہ کرے میرا شاگرد نہیں ہو سکتا۔"(لوقا 33:14)
آپ علیہ السلام کا یہ معمول تھا کہ کثرت سے بارگاہ خداوندی میں دعا کرتے۔ آپ کے شاگردوں نے عرض کی کہ انہیں بھی دعا کرنے کا طریقہ سکھایا جائے۔ آپ نے اس دعا میں یہ الفاظ بھی تعلیم فرمائے "ہمارے روزینے کی روٹی روز مرہ ہمیں دیا کر" (لوقا 3:11)
رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ کو بھی یہ الفاظ تعلیم فرمائے "پاک اور حلال کماؤ، نیک کام کرو، اللہ تعالٰی سے ہر دن کو دن ہی کی روزی مانگو اور اپنے آپ کو مردوں میں سمجھو" (بحوالہ مکاشفہ القلوب ص219)
ایک شخص نے التجا کی کہ اے حضور المسیح مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔ آپ نے فرمایا "لومڑیوں کی ماندیں ہیں اور پرندوں کےلئے گھونسلے مگر ابن انسان کےلئے اتنی بھی جگہ نہیں جہاں سر رکھے" (لوقا 58:9)
"ایک شخص نے حضور المسیح علیہ السلام سے پوچھا کہ "میں کونسی نیکی کروں تاکہ ابدی زندگی پاؤں" آپ نے تورات کی ایک آیت کی طرف اشارہ کرکے فرمایا۔ اس شخص نے عرض کی شریعت پر تو میں پہلے سے عمل کر رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا
"اگر تو کامل ہونا چاہتا ہے تو جا اپنا سب کچھ بیچ ڈال اور غریبوں کو دے" اس ضمن میں اناجیل مقدسہ کی سینکڑوں آیات پیش کی جاسکتی ہیں۔ فقر کی تعلیم تمام انبیاء علیہ السلام اور رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعلیم میں ہے۔ اتنی مطابقت شاید ہی کہیں ہو۔ رسول کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی کئی فرامین کو بیان فرمایا ہے۔ کچھ تو اناجیل متداولہ میں مل جاتے ہیں اور کچھ ان میں مذکور نہیں ہیں۔​

ویڈیو

Event more news